مکالمہ کی روش میں غور مکالمہ  کی  روش  میں  غور
عزت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب
شیخ الازھر - عالمی لیگ کی مجلس عاملہ کے صدر
"
عقلی طور پر درست نہیں کہ میں کسی دین کے بارے  اس کے بعض پیروکاروں کے جرائم کی بنا پر فیصلہ صادر کروں، اگر اسلام کی نسبت تشدد کی طرف کرنا درست ہے تو عیسائیت اور یہودیت  کو بھی  دہشت گردی کی طرف منسوب کرنا درست ہونا چاہیے .
میں چاہتا ہوں کہ میرے یہ ملاحظات اکیڈمک ریسرچ کی قیود سے آزاد اور غیر جانبدار ہوں تاکہ میں نقطہ ہاے نظر کے اختلاف ، خیالات و نظریات کے تبادلے  کے بارے جس قدر زیادہ ہو  معلومات دے سکوں  اور میں جو بات یہاں کہہ رہا ہوں وہ میرا اپنا نقطۂ نظر  ہے ایک ایسے آدمی کی طرح  جس نے ازھر میں پڑھا سیکھا اپنی جوانی اور بڑھاپا گزارا اور کافی عرصے سے اسلام اور دوسرے مذاھب بالخصوص آسمانی مذاھب کے درمیان باہمی احترام کے تعلق میں دلچسپی لی اور خاص طور پر دین عیسوی اور عیسائی بھائی جن کے بارے صبح و شام قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ لوگ از روۓ مودت مسلمانوں کے زیادہ قریب ہیں  .
تمام مذاھب  سے تشدد کی نفی  
 اجازت  دیں کہ میں اپنے ملاحظات کے آغاز میں ایک بدیہی امر کا ذکر کروں اور میرا نہیں گمان کہ یہ بدیہی امر اپنے وجود کے لئے ایک توجہ سے زیادہ کسی دلیل کا محتاج  ہو  اور وہ بدیہی امر یہ ہے کہ عقلی طور پر درست نہیں کہ میں کسی بھی دین کے بارے  مسلحہ تنظیموں کے ان جرائم کی  وجہ سے فیصلہ صادر کیا جاۓ جن کی وہ اس دین کے نام پر مرتکب ہو تی ہیں  اور تمام مذاھب کے مقرر کردہ اصول و قواعد کی خلاف ورزی کرتی ہیں  اگر اس بدیہی بات کو تسلیم نہ کیا جائے تو یہ  قضیہ شروع سے گڈ مڈ ہو  جائے گا اور پتا ہی نہیں چلے گا کہ ہم  کسی دین اور اس کے حقیقی پیروکاروں کے بارے میں بات کر  رہے  ہیں  یا ان چند مجرموں کے بارے میں جو دین کے نام پر جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں  اسی بناء پر اگر چند لوگوں کے جرائم کی وجہ سے اسلام کی  نسبت تشدد کی طرف کرنا صحیح ہے تو آج جو کچھ عالمی صیہونیت دنیا میں کر رہی ہے اور قرون وسطی میں صلیبی جنگوں کے دوران کیا گیا اس کی وجہ سے عیسائیت و یہودیت  کی نسبت بھی دہشت گردی کی طرف کرنا صحیح ہوگا ، مسمانان اس ایڈیالوجی کو رد کرتے ہیں  اور اس کی نفی کرتے ہیں .   مسمانانوں کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا  کہ انہوں نے مصلحتوں اور سیاست کے بازار میں دین اور دین فروشوں کو ایک نگاہ سے دیکھا ہو  اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسمانانوں نے عیسائیت کی طرف سے کئے  گئے حملوں کو روکنے کے لئے اپنی جان مال اور سرزمین کی  بھاری قیمت ادا کی  اس کے باوجود کسی بھی مسمان عالم ، مفکر اور تاریخ دان نے ایسی بات کرنے کی ہمت نہیں کی جو دور و نزدیک سے عیسائیت کو نقصان دیتی ہو  یا عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی شمار ہوتی ہو  اور یہی بات اس وقت یہودیت اور موسی علیہ السلام کے بارے میں مسمانانوں کے موقف پر کہی جائے گی ، اور آپ جانتے ہیں کہ مسمانان کا یہ موقف اس کا اسلامی عقیدہ اسے پابند  کرتا ہے اور کسی بھی مسمانان کو عیسائیت و یہودیت کا آسمانی شریعت ہونے کے ناطے احترام کرنےاور بہولے سے بھی اس کے بارے کچھ کہنے کا کوئی اختیار نہیں ہے ورنہ وہ کسی کام کا نہیں رہے گا اور دائر اسلام سے خارج ہو جائے گا .
آسمانی  شریعتوں پر ایمان  
اس اصل کی رو سے ایک مسمان اس اعتقاد کے ساتھ پرورش پاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺپر ایمان شروع سے لے کر آپ تک موسی و عیسی علیھما السلام سمیت تمام انبیاءعلیھم السلام  پر ایمان کا تقاضا کرتا ہے اور قرآن پر ایمان تورات و انجیل پر ایمان کو مستلزم ہے اور مسمان اس میں اپنے عیسائی اور یہودی بھائیوں کے لئے صرف ظاھری تعلق داری اور محبت سے ہی کام نہیں لیتا بلکہ صورت حال اس سے زیادہ گہری اور خطرناک ہے کیونکہ سب سے پہلے تو یہ دین اسلام پر ایمان کا مسئلہ ہے جب مسیحیت و یہودیت پر ایمان لانا اسلام پر ایمان لانے کا جزو لا ینفک ہے تو ان دونوں میں سے کسی ایک کا انکار بھی خود دین اسلام کا انکار کرنا ہے اور حتی کہ اسلامی شریعت میں بہت سے مسائل وہی ہیں  جو سابقہ شریعتوں میں موجود ہیں  اور ہم سب کو علم ہے کہ اصول فقہ کا معروف قاعدہ ہے کہ " جب تک کسی مسئلہ کا حکم منسوخ نہ ہوا ہو  پہلی  شریعت  ہمارے لئے بھی شریعت ہے .
ہم مسمانان اعتقاد رکھتے ہیں  کہ تورات کتاب اللہ ہے اور انجیل بھی اور یہ دونوں لوگوں کے لئے ھدایت اور نور ہیں  اور آپ کو  تعجب ہو گا  اگر میں یہ کہوں کہ بہت سے فقہاء نے یہ بات کہی ہے کہ جس طرح مسمان حائضہ عورت اور کسی مرد کے  ناپاکی کی حالت میں قرآن کو چھونا جائز نہیں ہے اسی طرح ان کے لئے غسل سے پہلے ناپاکی کی حالت میں تورات و انجیل کو چھونا بھی جائز نہیں.
مسمانانوں اور عیسائیوں کے درمیان مودت کی بنیاد  
جب ہم قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ قرآن نے مسمانانوں اور عیسائیوں کے بھائی چارے کے تعلق کو بڑے واضح انداز میں بیان کیا ہے اور اس تعلق کی بنیاد اس بھائی چارے پر رکھی ہے جو حضور اکرم ﷺکے قلب اطھر پر نازل ہونے والی وحی الہی نے اللہ تعالی کے اس فرمان سے واضح ہوتی  ہے " ضرور پائیں گے آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی رکھنے والے مومنوں سے یہود کو اور مشرکوں کو اور پائیں گے آپ سب سے زیادہ قریب دوستی میں مومنوں کے انہیں  جنہو ں نے کہا کہ ہم نصاری ہیں  یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں  اور وہ غرور نہیں کرتے اور جب سنتے ہیں  (قرآن) کو جو اتارا گیا رسول کی طرف تو تو دیکھے گا ان کی آنکھو ں کو کہ چھلک رہی ہیں  آنسووں سے اس لئے کہ پہچان لیا انہوں نے حق کو کہتے ہیں  اے رب ہم ایمان لے آے پس تو لکھ لے ہمیں (اسلام کی صداقت کی) گواہی دینے والوں میں "  (سورت المائدہ :  آیت 82، 83 ) .
ہمیں قرآن میں عیسی علیہ السلام کے بارے بڑی پیاری گفتگو ملتی ہے اور وہ اپنی والدہ مریم علیھا السلام کے ساتھ اللہ تعالی کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے " اور ہم نے بنا دیا مریم کے فرزند اور اس کی ماں مریم کو اپنی( قدرت) کی نشانی اور انہیں بسایا ایک بلند مقام پر جو رہائش کے قابل تھا اور وہاں چشمے جاری تھے" . (المومنون : آیت50) .
قرآن میں مریم علیھا السلام کے بارے بڑی عمدہ گفتگو کی گئی ہے اور ان کی پریشانیوں اور تکلیفوں کی غمناک منظر کشی کی گئی ہے قرآن میں ایک مکمل سورت کو مریم علیھا السلام کا نام دیا گیا ہے جبکہ ہمیں کوئی ایسی صورت نہیں ملتی جس کا نام  حضور  علیہ الصلاۃ و السلام کی کسی اہلیہ یا کسی بیٹی کے نام پر رکھا گیا ہو . قرآن کریم میں البروج کے نام سے ایک سورت ہے (سورت نمبر : 85) یہ مکہ میں نزول وحی کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی اس میں نجران کے عیسائیوں کی تعریف کی گئی ہے جو جل کر راکھ ہو گئے لیکن اللہ تعالی پر ایمان کے دامن کو نہیں چھوڑا . قرآن میں ایک اور مکی سورت ہے جس کو سورۂ روم کہا جاتا ہے اس سورت کی پہلی آیات روم کے عیسائیوں کے ساتھ اسلام کی ہمدردی کی تصویرکشی کرتی ہے جب ان کو فارس (ایران ) کے مجوسیوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی اور اھل مکہ نے بت پرستی کی ایمان پر فتح کی خوشی منائی اور مسمانانوں کو روم کی شکست پر طعنہ دیا جب مسمانان اس بات سے پریشان خاطر  ہوئے تو نبی کریم علیہالصلاۃ و السلام نے انہیں اطمینان دلایا اور فرمایا کہ عنقریب اھل روم ان پر غالب آ جائیں گے اور قرآن نے بھی اس کی تائید کر دی کہ اھل روم چند سالوں میں اھل فارس پر غالب آ جائیں گے اور اس دن مسمانانوں اور اھل روم میں سے ایمان والے اللہ کی مدد پر خوش ہو  جائیں گے اور فارس پر روم کا غالب آنے کا اللہ کا وعدہ پورا ہو ا . اور یہاں پر مسمانانوں اور روم کے بارے قرآن کی منظر کشی کسی پر مخفی نہیں ہے گویا کہ وہ رشتہ دار ہیں  جن کو محبت و قرابت کے تعلقات آپس میں ملاے ہو ئے ہیں  .
مسمانانوں کی عیسائیوں کی طرف ہجرت  
ہم اس حقیقت کو بیان کرنا چاھتے ہیں  کہ مسمانانوں اور عیسائیوں کے درمیان یہ گہرا تعلق جس کی اسلام یقین دہانی کرتا ہے ، کوئی فرضی چیز نہیں ہے جس کو سیاسی تعلقات یا اچھے پڑوس کے حصول کی خواہش نے لازم قرار دیا ہو  بلکہ یہ دین اسلام کے ان پختہ قواعد و اصولوں میں سے ہے جو حالات اور زمانے کے بدلنے سے نہیں بدلتے اس کی دلیل یہ ہے کہ پہلے مسمانان  جب قریش مکہ کے ظلم و ستم اور تکلیفوں سے تنگ آ گئے تو انہوں نے اپنی جان بچا کر عیسائی ریاست کی طرف ہجرت کی اور اس کے عیسائی بادشاہ سے پناہ طلب کی اور نبی کریم علیہ الصلوہ و السلام نے ان مسمانانوں کے بارے اس عیسائی بادشاہ کے علاوہ کسی اور بادشاہ اور ریاست پر اعتماد نہیں کیا آپ نے اسی وقت ان کمزور مسمانانوں کو ارشاد فرمایا : " حبشہ کی سرزمین پر ایک بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا پس تم اس کے ملک میں چلے جاؤ جب  تک اللہ تعالی تمہارے لئے موجودہ صورت حال سے آسانی کا کوئی راستہ نکالے " .  اور عجیب بات یہ ہے کہ پہلے مسمانانوں نے حبشہ کی طرف دو مرتبہ ہجرت کی اور ہجرت کرنے والی عورتوں میں نبی کریم ﷺکی بیٹی اور بیٹی کا خاوند  بھی شامل تھا . 
درحقیقت یہ بار بار ہجرت ان قرآنی اصولوں کی عملی تطبیق تھی جن میں سے چند کا ہم نے ذکر کیا ہے اور یہ ہجرت عیسی علیہ السلام کے پیروکاروں پر نبی کریم ﷺ کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے کہ  کس طرح نبی کریم ﷺمشکل وقت میں ان کی طرف دیکھ رہے تھے جیسا کہ سگے بھائی ایک دوسری کی طرف دیکھتے ہیں  اور اسی طرح یہ ہجرت ان محبت و عقیدت کے جذبات کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے جو عیسائی بادشاہ کے دل میں مسمانانوں کے لئے موجزن تھے . ام سلمہ رضی اللہ عنہ جو کہ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھی اس کیفیت کو وفداری اور احسان شناسی میں ڈوبے ہو ئے کلمات میں اس طرح بیان کرتی ہے کہ " ہم نے ملک حبشہ کی طرف سفر کیا یہاں تک کہ ہم اس میں جمع ہو گئے ہم نے بہترین پڑوس اور بہترین گھر میں قیام کیا بادشاہ نے ہمیں ہمارے دین کی ضمانت دی اور ہمیں اس سے کسی بھی ظلم کا خوف نہیں تھا " . ایک اور واقعہ جس میں اسلام اور عیسائیت کا آپس میں  مسجد نبوی کے صحن میں ملاپ ہو تا ہے جب یمن سے ساٹھ افراد پر مشتمل نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا تاکہ اسلام کے بارے میں گفتگو کرے تو نبی کریم ﷺنے مسجد نبوی میں ان کی میزبانی  کی ، ان کے قیام کے دوران ایک ایسا  موقع آیا کہ ان کی عبادت اور مسمانانوں کی عصر کی نماز کا وقت اکٹھا  ہو  گیا  تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا یہ ہماری عبادت کا وقت ہے اور ہم اسے  ادا کرنا چاھتے ہیں  تو نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ مسجد کے اس کونے میں ہو  جا‏ؤ اور عبادت کرو ، تواس طرح مسجد کے ایک کونے میں نبی کریم ﷺ کی اقتداء میں مسمانانوں کی نماز ادا کی اور اسی مسجد کے دوسرے کونے مسمانانوں کے پہلوں میں عیسائیوں نے اپنی عبادت کی ، یہ واقعہ ایک تشریعی قانون کو تشکیل دیتا ہے جس سے وہ فقھاء دلیل پکڑتے ہیں  جومسمانانوں کی مساجد میں غیر مسمانوں کا عبادت کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں  .
ایک اور جھلکی ( نہ کہ آخری ) جس میں یہودیت و عیسائیت کے لیے اسلام کی کشادگی  واضح ہو  جاتی ہے ،  وہ یہ ہے کہ مسمانان  کو کسی یہودی یا عیسائی عورت سے شادی کرنے کا شرعی حق حاصل ہے وہ عورت اپنے دین پر باقی رہنے کے باوجود اس کی بیوی ، اس کے بچوں کی ماں اور اس کے گھر کی مالکن ہو سکتی ہے ، ہم سب خاوند اور  بیوی کے درمیان باہمی پیار و محبت کے جذبات کو اچھی طرح جانتے ہیں  . اس حق شرعی کے مطابق مسمان پر کوئی حرج نہیں کہ وہ بقدر استطاعت ان نیک جذبات کو محفوظ رکھے تاکہ اپنی عیسائی یا یہودی شریک حیات سے ان کا باہمی تبادلہ کرے .
دوسرے مذاھب پر اسلام کی کشادگی    
اسلام ایک ایسا مذھب ہے جواچھی طرح واقف ہے کہ وہ سلسلہ مذاہب کی آخری کڑی ہے اور سابقہ مذاہب کو اپنی آغوش میں لئے ہوۓ ہے ، ان اخلاقی قدروں اور عقائد  کے اصولوں کی بشارت دیتا ہے جن کی سابقہ شریعتوں نے بشارت دی اور قربتیں و صلحۂ رحمیاں پیغام اسلام کو نوح ، ابراھیم ، موسی اور عیسی علیھم السلام کے پیغام سے میلاتی ہیں .
 آپ چاہیں تو میرے ساتھ  قرآن کے اس فرمان کو پڑھ لیں جس میں مسمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے : " اس نے مقرر فرمایا ہے تمہارے لئے وہ دین جس کا اس نے حکم دیا تھا نوح کو اور جیسے ہم نے بذریعہ وحی بھیجا ہے آپ کی طرف اور جس کا ہم نے حکم دیا تھا ابراھیم ، موسی اور عیسی کو کہ اس دین کو قائم رکھنا اور تفرقہ نہ ڈالنا اس میں "  (الشوری: آیت  13 ) . اور اسی طرح حضرت محمد ﷺنے بھی ان مشترکہ تعلقات کی جو آپۖ اور دوسرے انبیاء کے پیغام کو متحد کرتے ہیں  ان خوبصورت اور عمدہ الفاظ میں منظر کشی کی : " میں دنیا و آخرت میں عیسی علیہ السلام کے سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں ، انبیاء آپس میں علاتی بھائی ہیں جن کی مائیں مختلف اور مذھب ایک ہے " .اور یہی اصول اسلام  کی دیگر مذاھب کے لئے کشادگی ، ان کا اکرام ، ان کے پیروکاروں کا احترام اور ان کو ان کے عقائد پر برقراررکھنے کی وجہ ہے اگرچہ ان کے  عقائد اسلام کے عقائد کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں .
مسلمانوں کی غیر مسلموں کے لئے حمایت 
اسلامی ریاست کی ذمہ داری ، دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی حفاظت اور ان کی مکمل مذہبی آزادی کے بارے میں گفتگو کے لئے تو مستقل ایک رات  درکار ہے  لیکن میں یہاں صرف قرآن کی اس پہلی آیت کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کروں گا جس میں مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی ،  وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے : " اذن دیا گیا ہے (جھاد) کا ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جاتی ہے اس بناء پر کہ ان پر ظلم کیا گیا اور اللہ تعالی ان کی نصرت پر پوری طرح قادر ہے اور وہ مظلوم جن کو نکال دیا گیا ہے ان کے گھروں سے ناحق صرف اس بات پر کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر اللہ تعالی بچاؤ نہ کرتا لوگوں کا انہیں آپس میں لڑا کر تو (طاقت کی گارتگری سے) منہدم ہو  جائیں خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں جن میں اللہ کے نام کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے اور اللہ تعالی ضرور مدد فرماے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا یقینا اللہ تعالی قوت والا(اور) سب پر غالب ہے" . ( الحج : 39- 40) . ستر سے زیادہ آیات میں لڑائی  سے منع کرنے کے بعد اس آیت میں اس کی اجازت دی گئی ہے صحابہ کرام مکی دور کے دوران زخمی حالت میں حضور ﷺ کے پاس آتے اور ظلم کی شکایت کرتے تو آپ ۖ  ان سے فرماتے : " پس صبر کرو مجھے جنگ کا حکم نہیں دیا گیا " ،  یہاں تک کہ آپ نے مدینہ ہجرت کی تو مذکورہ آیت کا نزول ہو ا ، اس آیت کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام میں جنگ کے جواز کا پہلا سبب مظلوموں کی مدد ، ان سے ظلم کو روکنا اور دوسرے لوگوں کی طرح ان کو پرامن زندگی گزارنے کا حق دلانا ہے اور یہ ایسا سبب ہے کہ کبھی بھی پختہ عقل اس کے جواز کا انکار یا اس میں شک نہیں کر سکتی. اسی طرح اس آیت سے یہ بھی واضح ہو  جاتا ہے کہ لڑائی کی اجازت صرف اسلام  کے ہی نہیں  بلکہ شرک اور مشرکین کی سرکشی کی سرکوبی اور تمام آسمانی مذاھب کے دفاع کے لئے ہے . ایک اور چیز جو اس آیت میں غور و فکر کرنے والے ہر محقق – چاہے جس بھی مذھب سے تعلق  رکھتا ہو  - کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ اس آیت میں جنگ کے جواز کی وجہ صرف مساجد ہی نہیں بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں کے گرجے اور راھبوں کی خانقاہوں کے دفاع کی بھی ضمانت دی گئی ہے ، اگر رشک کرنا ہے تو اس دین پر رشک کر جو اپنے پیروکاروں کو دوسرے مذاھب کی حفاظت کے لئے جھاد کی ترغیب دیتا ہے مجھے  یہاں وہ بات یاد آ گئی جو چودہ سو سال پہلے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہو ئے کہی تھی : ( اللہ تعالی دین اسلام اور اس کے پیروکاروں کے ذریعے ذمیوں کی حفاظت فرماتا ہے ) مساجد ، گرجے اور راھبوں کی خانقاہوں کا یکجا ذکر ہو نے نے مفسرین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ان کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ، انہوں نے مسلمانوں کے جھاد کے منصوبے میں مساجد ، راھبوں کی خانقاہو ں اور کلیسوں کے یکجا ذکر ہو نے اور ان کے دفاع کے بارے ایک دوسرے سے پوچھا تو علماء تفسیر کا جواب تھا کہ یہ جگہیں مومنین کو متحد کرنے والی ہیں  اگرچہ ان کے نام مختلف ہے اور جیسا کہ امام رازی نے کہا : ( ان تمام جگہوں پر اللہ تعالی کا ذکر کیا جاتا ہے اس لئے یہ جگہیں بتوں کی پوجا کے قائم مقام نہیں ہیں ) اس آیت میں جھاد کی اجازت دیتے وقت صرف مساجد کو ہی مد نظر نہیں رکھا گیا بلکہ دوسروں کی عبادت گاہوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے .
اس لئے آج کل اسلام کے بارے جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ، جو جھوٹی اور من گھڑت باتیں اسلام کی طرف منسوب کی جا رہی ہیں  یہ صحیح نہیں ہے بلکہ یہ ان ذاتی مصلحتوں اور مقاصد کی کارستانیاں ہیں  جو سب پر عیاں ہیں ، یہ غلط تاثر ہے کہ اسلامی تہذیب ایک وحشی تہذیب ہے اور مسلمان دہشت گرد ہیں  اور یہ بات ناقابل قبول ہے کہ ایک امت جس کی تعداد سوا ارب تک ہو ، اس پر ان چند جرائم کی بناء پر حکم لگا دیا جائے جو کہ اس امت کے کسی حساب میں ہی نہیں آتے .
میں نے ابو غریب جیل میں دی جانے والی وحشیانہ سزاؤں کے سامنے کافی توقف کیا اور اس وقت کے اہم ذمداران کی معذرت میں غور و فکر کیا کہ کس طرح یہ جرائم تو امریکی قوم کی ترجمانی نہیں کرتے اور امریکی تہذیب کو نقصان نہیں پہنچاتے اور یہ بات حق ہے ہم اس پر یقین رکھتے ہیں  اور اس کی تائید بھی کرتے ہیں  لیکن سؤال یہ ہے کہ جب ابو غریب جیل کے جرائم اور عراق و فلسطین میں اسلامی تہذیب کو تباہ کرنا تو امریکا جیسی عظیم تہذیب کی مذمت کو جائز قرار نہیں دیتا تو گیارہ ستمبر کا واقعہ کس طرح اسلام اور مسلمانوں کی تہذیب کی مذمت کا جواز مہیا کر سکتا ہے .

"
 
 
 
  المزيد من المقالات لنفس الكاتب